اگر آپ کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے یا آپ کو خدشہ ہے کہ پولیس آپ کو گرفتار کرنا چاہتی ہے، تو پاکستانی قانون آپ کو ایک حفاظتی راستہ دیتا ہے جسے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-Arrest Bail) کہا جاتا ہے۔ یہ ضمانت ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 498 کے تحت دی جاتی ہے۔
اس مضمون میں ہم آسان زبان میں بتائیں گے کہ یہ ضمانت کیا ہے، عدالت کن باتوں کو دیکھتی ہے، اور لاہور میں اس کا طریقۂ کار کیا ہے۔
Facing this legal problem? Talk to an Advocate High Court today.
Muhammad Shafique Baloch, Advocate High Court, Lahore. Practising since 2006 in bail, FIA, family, property and writ matters. | ابھی واٹس ایپ پر رابطہ کریں
قبل از گرفتاری ضمانت کیا ہے؟
یہ عدالت کا ایسا حکم ہے کہ اگر ملزم کو کسی خاص مقدمے میں گرفتار کیا جائے تو اسے ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔ یہ گرفتاری سے پہلے حاصل کی جاتی ہے۔ جبکہ بعد از گرفتاری ضمانت (دفعہ 496 اور 497) اس شخص کے لیے ہوتی ہے جو پہلے ہی حراست میں ہو۔
قانونی بنیاد: دفعہ 498 ضابطہ فوجداری
دفعہ 498 سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کو کسی بھی شخص کو ضمانت پر رہا کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ قانون میں “قبل از گرفتاری ضمانت” کے الفاظ موجود نہیں، بلکہ اعلیٰ عدالتوں نے اسی دفعہ سے یہ ریلیف وضع کیا۔ اس کی ابتدا لاہور ہائی کورٹ کے مقدمے Hidayat Ullah Khan v. The Crown (PLD 1949 Lahore 21) سے ہوئی۔
غیر معمولی ریلیف: بدنیتی کا اصول
سپریم کورٹ آف پاکستان نے بار بار قرار دیا ہے کہ قبل از گرفتاری ضمانت ایک غیر معمولی ریلیف ہے۔ اہم فیصلے یہ ہیں:
- Murad Khan v. Fazal-e-Subhan (PLD 1983 SC 82)
- Meeran Bux v. The State (PLD 1989 SC 347)
- Rana Muhammad Arshad v. Muhammad Rafique (PLD 2009 SC 427)
ان فیصلوں کا بنیادی اصول یہ ہے کہ درخواست گزار کو عام طور پر یہ دکھانا ہوتا ہے کہ اس کی گرفتاری بدنیتی (mala fide) پر مبنی ہے، یعنی مقصد اسے ذلیل کرنا، ہراساں کرنا یا دباؤ ڈالنا ہے۔ بدنیتی کی عام علامات:
- مدعی کے ساتھ پرانی دشمنی، جائیداد یا خاندانی تنازع
- ایف آئی آر درج کرانے میں غیر ضروری تاخیر
- دیوانی یا کاروباری جھگڑے کو فوجداری مقدمہ بنا دینا
- مقامی پولیس پر مدعی کا اثر و رسوخ
- ایک ہی شخص کے خلاف بار بار جھوٹے مقدمات
عدالت مقدمے کے میرٹ کو بھی دیکھتی ہے۔ اگر ریکارڈ سے معاملہ مزید انکوائری (further inquiry) کا بنتا ہو تو عدالت ملزم کو غیر ضروری گرفتاری سے بچانے پر زیادہ آمادہ ہوتی ہے۔
کب ضمانت عموماً نہیں ملتی
- دفعہ 497(1) کی ممانعتی شق (prohibitory clause) میں آنے والے سنگین جرائم، جب ملزم کے خلاف معقول شواہد موجود ہوں
- جب ملزم سے اسلحہ، مال یا دستاویز کی برآمدگی ضروری ہو
- جب ملزم مفرور رہا ہو یا عدالتی کارروائی سے غیر حاضر رہا ہو
- جب بدنیتی ثابت نہ ہو اور شکایت صرف گرفتاری کی ہو
Facing this legal problem? Talk to an Advocate High Court today.
Muhammad Shafique Baloch, Advocate High Court, Lahore. Practising since 2006 in bail, FIA, family, property and writ matters. | ابھی واٹس ایپ پر رابطہ کریں
Need a lawyer for this? See our service page: Bail & Criminal Lawyer in Lahore | English version: read in English
کس عدالت سے رجوع کریں؟
سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں کو یہ اختیار حاصل ہے، لیکن عام اصول یہ ہے کہ پہلے سیشن کورٹ سے رجوع کیا جائے۔ ہائی کورٹ سے براہِ راست رجوع صرف غیر معمولی حالات میں کیا جاتا ہے، ورنہ سیشن کورٹ سے درخواست خارج ہونے کے بعد۔
طریقۂ کار مرحلہ وار
- ایف آئی آر اور متعلقہ ریکارڈ کی نقل حاصل کریں۔
- دفعہ 498 کے تحت درخواست تیار کریں جس میں حقائق، بدنیتی کی وجوہات، میرٹ کے نکات اور استدعا ہو، ساتھ بیانِ حلفی۔
- ذاتی حاضری: ملزم کا عدالت میں خود پیش ہونا لازمی ہے۔
- عبوری ضمانت: پہلی سماعت پر عدالت مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت دے کر پولیس سے ریکارڈ طلب کر سکتی ہے۔
- تفتیش میں شامل ہونا: ملزم کو تفتیش میں شامل ہونا ہوتا ہے، ورنہ عبوری ضمانت واپس ہو سکتی ہے۔
- تصدیق یا اخراج: فریقین کو سننے کے بعد عدالت ضمانت کنفرم کرتی ہے یا درخواست خارج کر دیتی ہے۔
ضمانت کی منسوخی
اگر ملزم ضمانت کا غلط استعمال کرے، مثلاً شواہد میں ردوبدل، گواہوں کو دھمکانا یا عدالت میں پیش نہ ہونا، تو دفعہ 497(5) کے تحت ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
کیا ہر سماعت پر حاضری ضروری ہے؟
جی ہاں۔ ضمانت کنفرم ہونے تک ملزم کو ہر تاریخ پر عدالت میں حاضر ہونا ہوتا ہے، غیر حاضری پر درخواست خارج ہو سکتی ہے۔
محمد شفیق بلوچ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
دفتر نمبر 3، بیسمنٹ، میکوپ سینٹر، 1 مزنگ روڈ، نزد اے جی آفس چوک / لاہور ہائی کورٹ، لاہور
واٹس ایپ / فون: 0321-4960782
یہ مضمون عمومی قانونی معلومات کے لیے ہے، کسی مخصوص مقدمے کے لیے قانونی مشورہ نہیں۔ ہر مقدمے کے حقائق مختلف ہوتے ہیں، کوئی قدم اٹھانے سے پہلے وکیل سے مشورہ کریں۔
One thought on “پاکستان میں قبل از گرفتاری ضمانت (دفعہ 498 ضابطہ فوجداری): مکمل رہنمائی”
Comments are closed.