ہر ہفتے بہت سے پاکستانی مسافر درست پاسپورٹ، ویزا اور کنفرم ٹکٹ کے باوجود ایئرپورٹ پر امیگریشن کاؤنٹر سے واپس کر دیے جاتے ہیں۔ اسے آف لوڈنگ کہا جاتا ہے۔ 2026 میں لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں نے واضح کیا ہے کہ ایف آئی اے کا آف لوڈ کرنے کا اختیار لامحدود نہیں، اور یہ صرف قانون کے مطابق اور تحریری وجوہات کے ساتھ استعمال ہو سکتا ہے۔
Facing this legal problem? Talk to an Advocate High Court today.
Muhammad Shafique Baloch, Advocate High Court, Lahore. Practising since 2006 in bail, FIA, family, property and writ matters. | ابھی واٹس ایپ پر رابطہ کریں
آف لوڈنگ کیا ہے؟
جب ایف آئی اے امیگریشن کسی ایسے مسافر کو روانگی کی اجازت نہ دے جس کا نام ای سی ایل، پاسپورٹ کنٹرول لسٹ یا کسی اور فہرست میں نہ ہو، تو اسے آف لوڈنگ کہتے ہیں۔ مسافر کی پرواز، اور اکثر ٹکٹ، ہوٹل بکنگ اور ویزا فیس بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ ڈان کی جون 2026 کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں تقریباً 35 ہزار اور 2025 میں تقریباً 40 ہزار مسافر آف لوڈ کیے گئے۔
لاہور ہائی کورٹ، مئی 2026: تحریری وجوہات کے بغیر آف لوڈنگ نہیں
مقدمہ Muhammad Abbas v. Federation of Pakistan میں، جس کا فیصلہ مئی 2026 کے آخر میں جسٹس راحیل کامران نے کیا، درخواست گزار کے پاس درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات تھیں، مگر ایف آئی اے نے اس شبہ پر آف لوڈ کر دیا کہ وہ واپس نہیں آئے گا۔ عدالت نے قرار دیا کہ:
- بیرونِ ملک سفر کا حق بنیادی حق ہے اور محض شبہ کی بنیاد پر چھینا نہیں جا سکتا۔
- درست ویزا، ٹکٹ اور دستاویزات رکھنے والے شہری کو قانونی جواز کے بغیر نہیں روکا جا سکتا۔
- وجوہات تحریر کرنا قانونی تقاضا ہے، محض رسمی کارروائی نہیں۔
- مسافر سے پوچھے گئے سوالات اور اس کے جوابات ریکارڈ کیے جائیں، اور جہاں ممکن ہو انٹرویو الیکٹرانک طور پر محفوظ کیا جائے۔
- مسافر کو آف لوڈنگ آرڈر یا پروفارما کی نقل دی جائے۔
اس فیصلے کا رپورٹڈ حوالہ (citation) تحریر کے وقت دستیاب نہیں تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ، ستمبر 2026
ستمبر 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک مقدمے میں آف لوڈ کرنے والے افسر کی عدم حاضری اور ایف آئی اے کے متضاد بیانات پر برہمی کا اظہار کیا اور سینئر افسران کو ریکارڈ سمیت طلب کیا۔ 19 ستمبر 2026 کو ایک اور مقدمے میں عدالت نے درخواست گزار کو سفر کی اجازت دی اور ایف آئی اے کے آف لوڈنگ کے اختیار پر ہی سوال اٹھایا۔ عدالت نے کہا کہ اندرونی ایس او پیز قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔
ایف آئی اے میں کیا تبدیل ہوا؟
- اسٹینڈنگ آرڈر نمبر 02/2026: رپورٹس کے مطابق آف لوڈ ہونے والے مسافروں کے لیے اپیل اور نظرِثانی کا باقاعدہ طریقہ متعارف کرایا گیا ہے۔
- احتساب: 2023 کے یونان کشتی حادثے کے بعد 100 سے زائد افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی۔
- ٹیکنالوجی: ایڈوانس پیسنجر انفارمیشن اور ای گیٹس متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
Facing this legal problem? Talk to an Advocate High Court today.
Muhammad Shafique Baloch, Advocate High Court, Lahore. Practising since 2006 in bail, FIA, family, property and writ matters. | ابھی واٹس ایپ پر رابطہ کریں
Need a lawyer for this? See our service page: FIA, Offloading & Travel Rights Lawyer | English version: read in English
آف لوڈ ہو گئے؟ یہ اقدامات کریں
- پُرسکون رہیں اور ریکارڈ رکھیں: تاریخ، فلائٹ نمبر، افسر کا نام اور پوچھے گئے سوالات نوٹ کریں۔
- آف لوڈنگ سلپ یا پروفارما طلب کریں: لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق آپ اس کی نقل کے حقدار ہیں۔
- دستاویزات سنبھال کر رکھیں: بورڈنگ پاس، ٹکٹ، ویزا، ہوٹل بکنگ، بینک اسٹیٹمنٹ اور ملازمت یا کاروبار کا ثبوت۔
- اسٹینڈنگ آرڈر 02/2026 کے تحت نظرِثانی کی درخواست دیں: تحریری وجوہات، فیصلے پر نظرِثانی اور آئندہ سفر کی کلیئرنس کی استدعا کے ساتھ۔
- وفاقی محتسب کے پاس بدانتظامی کی شکایت دائر کریں اگر ایف آئی اے جواب نہ دے۔
- آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کریں اگر سفر فوری ہو یا ایف آئی اے کارروائی نہ کرے۔
- نقصان کا دعویٰ کریں، غیر قانونی آف لوڈنگ کی صورت میں ٹکٹ، ہوٹل اور ویزا کے اخراجات کے لیے۔
آئینی بنیاد
اعلیٰ عدالتوں نے تسلیم کیا ہے کہ بیرونِ ملک سفر کا حق آئین سے ماخوذ ہے، خصوصاً آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک)، آرٹیکل 9 (زندگی اور آزادی)، آرٹیکل 10-اے (منصفانہ کارروائی) اور آرٹیکل 15 (نقل و حرکت کی آزادی)۔ سفر پر پابندی کسی قانون، مثلاً ای سی ایل آرڈیننس 1981، یا عدالتی حکم سے ہی لگ سکتی ہے۔ کسی افسر کا محض شبہ کافی نہیں۔
محمد شفیق بلوچ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
دفتر نمبر 3، بیسمنٹ، میکوپ سینٹر، 1 مزنگ روڈ، نزد اے جی آفس چوک / لاہور ہائی کورٹ، لاہور
واٹس ایپ / فون: 0321-4960782
یہ مضمون عمومی قانونی معلومات کے لیے ہے، کسی مخصوص مقدمے کے لیے قانونی مشورہ نہیں۔ ہر مقدمے کے حقائق مختلف ہوتے ہیں، کوئی قدم اٹھانے سے پہلے وکیل سے مشورہ کریں۔