کیا ریاست کسی ایسے قیدی کو پھانسی دے سکتی ہے جو یہ سمجھنے کے قابل ہی نہ رہا ہو کہ اسے سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ 2021 تک پاکستانی قانون میں اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں تھا۔ کسی قانون یا قاعدے میں ذہنی مریض سزائے موت کے قیدی کی پھانسی پر صریح پابندی نہیں تھی، اور 2016 میں خود سپریم کورٹ نے ایک شیزوفرینیا کے مریض قیدی کے بلیک وارنٹ برقرار رہنے دیے تھے۔ 10 فروری 2021 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے مسمات صفیہ بانو بنام ہوم ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ پنجاب وغیرہ میں، جو PLD 2021 SC 488 میں رپورٹ ہوا، یہ سوال طے کر دیا۔
یہ فیصلہ صرف تین قیدیوں کو پھانسی سے بچانے تک محدود نہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ جنون (پاگل پن) کے عذر سے کیسے نمٹے، یہ کیسے طے کرے کہ ملزم مقدمے کا سامنا کرنے کے قابل ہے یا نہیں، اور کب سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو میڈیکل بورڈز، فرانزک ذہنی صحت کے مراکز اور تربیتی پروگرام قائم کرنے کی ہدایات بھی دیں۔ انگریزی میں تفصیلی مضمون: Safia Bano Case (PLD 2021 SC 488)
مختصر جواب: سپریم کورٹ نے کیا فیصلہ دیا؟
- سزا کی وجہ نہ سمجھنے والے قیدی کو پھانسی نہیں: اگر سزائے موت کا قیدی ذہنی بیماری کی وجہ سے اپنی سزا کی وجہ اور منطق سمجھنے کے قابل نہ رہے تو اس کی سزا پر عملدرآمد انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔
- ہر ذہنی بیماری کافی نہیں: یہ رعایت صرف اس وقت ملے گی جب ماہرینِ نفسیات پر مشتمل میڈیکل بورڈ مکمل معائنے کے بعد تصدیق کرے کہ قیدی میں اپنی سزائے موت کی وجہ سمجھنے کی اعلیٰ ذہنی صلاحیت باقی نہیں رہی۔
- مقدمے کا سامنا کرنے کی اہلیت: ضابطہ فوجداری کی دفعات 464 اور 465 کے تحت، جب عدالت کی ابتدائی رائے بنے کہ ملزم شاید کارروائی سمجھنے کے قابل نہیں، تو انکوائری لازمی ہے اور میڈیکل بورڈ کی رائے ناگزیر ہے۔
- جرم کے وقت جنون: یہ معاملہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 84 کے تحت ہی رہے گا۔ اسے ثابت کرنے کا بار ملزم پر ہے، مگر استغاثہ کو اپنا مقدمہ پھر بھی شک سے بالاتر ثابت کرنا ہوگا۔
- 2016 کا فیصلہ غیر مؤثر: PLD 2017 SC 18 میں دی گئی آراء، جن میں شیزوفرینیا کو مستقل ذہنی بیماری نہیں مانا گیا تھا، اب کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتیں۔
بنچ اور زیرِ سماعت مقدمات
لارجر بنچ میں جسٹس منظور احمد ملک (جنہوں نے فیصلہ تحریر کیا)، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس سید منصور علی شاہ شامل تھے۔ ماہرِ نفسیات بریگیڈیئر (ر) پروفیسر مودت حسین رانا اور بیرسٹر حیدر رسول مرزا، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، نے عدالتی معاون کے طور پر معاونت کی۔ وفاق، چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے لاء افسران کو بھی سنا گیا۔
پانچ معاملات اکٹھے سنے گئے: امداد علی کی اہلیہ صفیہ بانو کی سول ریویو پٹیشن نمبر 420/2016؛ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کی سول ریویو پٹیشن نمبر 424/2016؛ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کی کرمنل ریویو پٹیشن نمبر 170/2016 جس میں امداد علی کی سزائے موت عمر قید میں بدلنے کی استدعا تھی؛ کنیزاں بی بی سے متعلق ہیومن رائٹس کیس نمبر 16514-P/2018؛ اور غلام عباس کی والدہ نور جہاں کی آرٹیکل 184(3) کے تحت آئینی درخواست نمبر 09/2019۔
تین قیدیوں کے حالات
امداد علی (بورے والا، ضلع وہاڑی)
امداد علی پر 21 جنوری 2001 کو تھانہ سٹی بورے والا کی حدود میں حافظ محمد عبداللہ کے قتل کا الزام تھا۔ اس کا اپنا کوئی وکیل نہیں تھا، سرکاری خرچ پر وکیل مقرر کیا گیا۔ وکیل نے دفعہ 465 ض ف کے تحت ذہنی اہلیت کی انکوائری کی درخواست دی، مگر ٹرائل کورٹ نے چند سوالات پوچھ کر درخواست مسترد کر دی۔ اس سے پہلے معائنہ کرنے والے سروسز ہسپتال کے ڈاکٹر کو طلب کرنے کی درخواست بھی مسترد ہوئی۔ اس کی اہلیہ صفیہ بانو نے بطور گواہ صفائی (DW-1) بیان دیا کہ وہ برسوں سے مافوق الفطرت چیزوں کی باتیں کرتا تھا اور ایک ڈاکٹر نے اسے مینٹل ہسپتال لاہور ریفر کیا تھا۔ اس کے باوجود 29 جولائی 2002 کو دفعہ 302 ت پ کے تحت سزائے موت ہوئی، 2008 میں لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ اور 2015 میں سپریم کورٹ نے اپیلیں خارج کیں، اور صدر نے رحم کی اپیل مسترد کر دی۔
26 جولائی 2016 کے بلیک وارنٹ جاری ہونے پر صفیہ بانو نے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا مگر تینوں جگہ ناکامی ہوئی۔ بعد میں عدالت کے بنائے گئے میڈیکل بورڈ نے رائے دی کہ امداد علی دائمی شیزوفرینیا کا مریض ہے اور غالب امکان ہے کہ بیماری جرم سے پہلے شروع ہو چکی تھی۔
مسمات کنیزاں بی بی (پیر محل، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ)
کنیزاں بی بی کو 1989 میں تھانہ پیر محل کی حدود میں چھ افراد کے قتل کے مقدمے میں 1991 میں چھ بار سزائے موت ہوئی۔ 1994 میں ہائی کورٹ اور 1999 میں سپریم کورٹ نے اپیلیں خارج کیں اور 2000 میں رحم کی اپیل مسترد ہوئی۔ ٹرائل یا اپیل میں ذہنی بیماری کا عذر کبھی نہیں اٹھایا گیا۔ بعد میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں شیزوفرینیا کی تشخیص ہوئی۔ 2018 میں چیف جسٹس نے جیل رپورٹ پر ازخود نوٹس لیا۔ میڈیکل بورڈ نے اسے شدید اور تاحیات شیزوفرینیا کا مریض قرار دیا۔ فیصلے کے وقت وہ تقریباً 32 سال سے قید میں تھی۔
غلام عباس (راولپنڈی)
غلام عباس کو 2004 میں تھانہ آر اے بازار راولپنڈی کی حدود میں قتل کے مقدمے میں 2006 میں سزائے موت ہوئی۔ اپیلیں، نظرِ ثانی اور رحم کی اپیل سب مسترد ہوئیں اور 18 جون 2019 کو پھانسی مقرر تھی۔ اس کی والدہ کی درخواست پر چیف جسٹس نے پھانسی روک دی۔ میڈیکل بورڈ نے ذہنی و ادراکی معذوری (اندازاً آئی کیو 59 سے کم) اور نفسیاتی علامات کی تصدیق کی۔
سوال 1: جرم کے وقت جنون (دفعہ 84 ت پ)
دفعہ 84 کے مطابق کوئی فعل جرم نہیں اگر کرنے والا اس وقت فاترالعقلی کی وجہ سے فعل کی نوعیت، یا یہ کہ وہ غلط یا خلافِ قانون ہے، جاننے کے قابل نہ ہو۔ عدالت نے خضر حیات بنام سرکار (2006 SCMR 1755) پر انحصار کرتے ہوئے دہرایا کہ ہر ذہنی پریشان شخص خود بخود ذمہ داری سے بری نہیں ہوتا، اور ہر شخص کو اس وقت تک عاقل تصور کیا جاتا ہے جب تک اس کے برعکس ثابت نہ ہو۔ قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 121 کے تحت اس عذر کو ثابت کرنے کا بار ملزم پر ہے، تاہم:
- استغاثہ کو اپنا مقدمہ پھر بھی شک سے بالاتر ثابت کرنا ہوگا؛ ملزم کا عذر ثابت نہ ہونے سے استغاثہ اس ذمہ داری سے آزاد نہیں ہوتا۔
- عذر ثابت کرنے کے لیے ملزم استغاثہ کی پیش کردہ شہادت سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
سوال 2: مقدمے کا سامنا کرنے کی اہلیت (دفعات 464 اور 465 ض ف)
روزمرہ ٹرائل پریکٹس کے لیے فیصلے کا یہ حصہ سب سے اہم ہے۔ دفعہ 464 مجسٹریٹ کے سامنے انکوائری یا ٹرائل پر، اور دفعہ 465 سیشن کورٹ یا ہائی کورٹ کے ٹرائل پر لاگو ہوتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا:
- “یقین کرنے کی وجہ” اور “عدالت کو معلوم ہو” کا مطلب ایک ہی ہے: ابتدائی، عارضی رائے کہ ملزم کی ذہنی اہلیت کی انکوائری ہونی چاہیے یا نہیں۔
- یہ رائے تاثر پر نہیں بلکہ ریکارڈ، پولیس فائل اور کیس فائل کے مواد کے معروضی جائزے پر مبنی ہو۔ جج ملزم کا رویہ دیکھ سکتا ہے اور سوالات پوچھ سکتا ہے، مگر محض سوالات پر رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔
- فریقین کے نہ اٹھانے کے باوجود عدالت خود بھی یہ معاملہ اٹھا سکتی ہے۔
- ابتدائی رائے بننے کے بعد انکوائری لازمی ہے اور صوبائی حکومت کے نوٹیفائیڈ میڈیکل بورڈ سے معائنہ ضروری ہے۔
- بورڈ کی رپورٹ محض تشخیص نہ ہو بلکہ شعور، ذہانت، سوچ، مزاج، جذبات، ادراک، فہم، قوتِ فیصلہ اور بصیرت کا تفصیلی جائزہ ہو۔
- بورڈ کے سربراہ کو عدالتی گواہ کے طور پر پیش کیا جائے گا اور دونوں فریق جرح کر سکیں گے؛ دونوں فریق اپنی شہادت بھی پیش کر سکتے ہیں۔
عدالت نے امداد علی کے ٹرائل میں چند سوالات کی بنیاد پر اہلیت طے کرنے کو “سرسری طرزِ عمل” قرار دیا، اور ہائی کورٹ کی اس بات پر بھی ناپسندیدگی ظاہر کی کہ نئے سرکاری وکیل کو تیاری کے لیے صرف ایک دن دیا گیا۔
سوال 3: کیا ذہنی مریض قیدی کو پھانسی دی جا سکتی ہے؟
عدالت نے نوٹ کیا کہ کسی قانون میں صریح پابندی نہیں، مگر پاکستان جیل قواعد 1978 میں ضمنی تحفظات موجود ہیں: قاعدہ 107(iv) کے تحت ذہنی بیماری کے عذر پر رحم کی اپیل کے ساتھ میڈیکل رپورٹ بھیجنا لازم ہے، اور قاعدہ 362 کے تحت پھانسی سے پہلے وارنٹ اور اپیلوں کے مسترد ہونے کی تفصیل قیدی کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ اسے کیوں پھانسی دی جا رہی ہے۔ عدالت نے امریکی سپریم کورٹ (Ford v. Wainwright، Panetti v. Quarterman، Madison v. Alabama)، بھارتی سپریم کورٹ (Shatrughan Chauhan، Accused X v. State of Maharashtra)، اقوامِ متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کے قاعدہ 109، اور پاکستان کے توثیق شدہ ICCPR اور CRPD کا بھی جائزہ لیا۔
نتیجہ یہ نکالا کہ اگر ذہنی بیماری کی وجہ سے قیدی اپنی سزا کی وجہ سمجھنے کے قابل نہ ہو تو سزائے موت پر عملدرآمد انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ یہ رعایت خودکار نہیں، صرف میڈیکل بورڈ کی تصدیق پر ملے گی۔
ہر قیدی کے ساتھ کیا ہوا؟
امداد علی: سرکار کی نظرِ ثانی منظور ہوئی؛ دفعہ 302(ب) کے تحت سزا برقرار رہی مگر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی، دفعہ 382-ب ض ف کے فائدے کے ساتھ۔ اہم بات: عدالت نے کہا کہ وہ ذہنی حالت کو “چھوئے بغیر” سزا تبدیل کر رہی ہے، دو وجوہات کی بنا پر: ٹرائل کورٹ نے وجہِ عناد کو تسلیم نہیں کیا تھا، اور وہ تقریباً 20 سال قید کاٹ چکا تھا جس پر سکندر حیات بنام سرکار (PLD 2020 SC 559) کا “زندگی کی جائز توقع” کا اصول لاگو ہوا۔ 2016 کا فیصلہ (PLD 2017 SC 18) بے اثر قرار پایا۔
کنیزاں بی بی: اس نے نظرِ ثانی دائر نہیں کی تھی، مگر عدالت نے ازخود نظرِ ثانی اور آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کے اختیار سے چھ بار کی سزائے موت کو چھ بار عمر قید میں بدل دیا، جو بیک وقت چلیں گی۔
دونوں کو جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ منتقل کرنے کا حکم ہوا؛ سزا مکمل ہونے کے بعد رہائی تب ہوگی جب میڈیکل بورڈ انہیں اپنے اور معاشرے کے لیے محفوظ قرار دے۔
غلام عباس: معین الدین بنام سرکار (PLD 2019 SC 749) کی پیروی میں جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت ہوئی کہ مکمل میڈیکل ریکارڈ، بورڈ کی رپورٹ اور فیصلے کی نقل کے ساتھ نئی رحم کی اپیل صدر کو بھیجی جائے، اور فیصلے تک اسے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ منتقل کیا جائے۔
حکومتوں کو ہدایات
- قوانین اور قواعد میں ترامیم، جن میں “فاترالعقل” اور “پاگل” جیسے الفاظ کی جگہ “ذہنی عارضہ” یا “ذہنی بیماری”، اور “سول سرجن” کی جگہ “میڈیکل بورڈ” شامل ہیں۔
- تمام صوبوں کے جیل قواعد اور جیل مینوئل میں ہم آہنگی۔
- قید کے دوران ذہنی بیماری میں مبتلا قیدیوں کے لیے ہائی سیکیورٹی فرانزک ذہنی صحت مراکز کا قیام۔
- سزائے موت کے ذہنی مریض قیدیوں کے معائنے کے لیے تین ماہرینِ نفسیات (سائیکاٹرسٹ) اور دو سائیکالوجسٹ پر مشتمل میڈیکل بورڈ۔
- ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر اور اسلام آباد میں دو سائیکاٹرسٹ اور ایک سائیکالوجسٹ کا بورڈ، جو جیلوں اور دفعات 464/465 کے تحت عدالتوں کے ریفر کردہ افراد کا معائنہ کرے۔
- ڈاکٹروں، سوشل ورکرز، پولیس اور جیل عملے کی تربیت۔
- جوڈیشل اکیڈمیوں میں ججوں، پراسیکیوٹرز، وکلاء اور عدالتی عملے کے لیے کورسز۔
مبصرین کے مطابق ان ہدایات پر عملدرآمد سست اور نامکمل رہا ہے۔ کسی ضلع میں میڈیکل بورڈ پر انحصار سے پہلے معلوم کر لیں کہ آیا وہ واقعی نوٹیفائی ہو چکا ہے۔
عملی طور پر اس فیصلے کو کیسے استعمال کریں؟
- ٹرائل کے مرحلے پر: دفعہ 464 یا 465 کی درخواست جلد، ممکن ہو تو فردِ جرم سے پہلے، دائر کریں اور تمام میڈیکل ریکارڈ، نسخے، جیل ریکارڈ اور گھر والوں کے بیانات ساتھ لگائیں۔ نوٹیفائیڈ میڈیکل بورڈ کو ریفر کرنے اور تفصیلی رپورٹ کی استدعا کریں۔ اگر عدالت محض چند سوالات پر فیصلہ کرے تو ریکارڈ پر اعتراض کریں؛ ایسا حکم نگرانی یا آرٹیکل 199 کے تحت چیلنج ہو سکتا ہے۔
- اپیل کے مرحلے پر: دیکھیں کہ ٹرائل کورٹ نے ذہنی بیماری کے اشاروں کو نظرانداز تو نہیں کیا۔ ذہنی بیماری کا ریکارڈ دیگر وجوہات کے ساتھ کم سزا کے حق میں دلیل بن سکتا ہے۔
- سزائے موت حتمی ہونے کے بعد: جیل حکام اور محکمہ داخلہ سے میڈیکل بورڈ کے معائنے کی درخواست کریں اور رحم کی اپیل کے ساتھ میڈیکل ریکارڈ یقینی بنائیں۔ بورڈ کے معائنے کے بغیر بلیک وارنٹ جاری ہوں تو آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔
فیصلے کی حدود اور مخالف فریق کے دلائل
- صرف تشخیص کافی نہیں؛ معیار یہ ہے کہ بیماری نے سزا کی وجہ سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دی ہو۔
- مدعی فریق کہے گا کہ ملزم بیماری کا ڈرامہ کر رہا ہے؛ گرفتاری سے پہلے کا میڈیکل ریکارڈ اس کا بہترین جواب ہے۔
- امداد علی اور کنیزاں بی بی کی سزائیں بنیادی طور پر وجہِ عناد اور طویل قید کی بنا پر کم ہوئیں؛ اس فیصلے کو ایسا مقدمہ نہ بتائیں جہاں صرف ذہنی بیماری پر اپیل میں سزا کم ہوئی۔
- دفعہ 84 کے تحت بار بدستور ملزم پر ہے۔
- پابندی سزا پر عملدرآمد پر ہے، سزا پر نہیں؛ قیدی سزا یافتہ ہی رہتا ہے۔
- قتل کے مقدمات میں مقتول کے ورثاء کے حقوق اور صلح کے سوالات بھی اٹھ سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
صفیہ بانو کیس کا حوالہ کیا ہے؟
مسمات صفیہ بانو بنام ہوم ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ پنجاب وغیرہ، PLD 2021 SC 488، فیصلہ 10 فروری 2021، پانچ رکنی بنچ۔ 2016 کا فیصلہ PLD 2017 SC 18 میں رپورٹ ہوا۔
کیا اس فیصلے نے ذہنی مریضوں کے لیے سزائے موت ختم کر دی؟
نہیں۔ یہ صرف اس قیدی کی پھانسی روکتا ہے جس کے بارے میں میڈیکل بورڈ تصدیق کرے کہ وہ سزا کی وجہ سمجھنے کے قابل نہیں۔
کیا شیزوفرینیا پھانسی روکنے کے لیے کافی ہے؟
خود بخود نہیں۔ اصل معیار قیدی کی سمجھ پر بیماری کا اثر ہے، جس کی تصدیق میڈیکل بورڈ کرے۔
کیا جج چند سوال پوچھ کر ملزم کی اہلیت طے کر سکتا ہے؟
نہیں۔ سوالات سے ابتدائی رائے بن سکتی ہے، مگر اس کے بعد میڈیکل بورڈ کی شہادت کے ساتھ انکوائری لازمی ہے۔
ہم کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
اگر آپ کے خاندان کا کوئی فرد ٹرائل کا سامنا کر رہا ہے، سزا یافتہ ہے یا سزائے موت کا قیدی ہے اور اس میں ذہنی بیماری کی علامات ہیں تو بروقت درست درخواست نتیجہ بدل سکتی ہے۔ ہمارے صفحات بیل اینڈ کرمنل لائر لاہور اور لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دیکھیں یا دفتر سے رابطہ کریں۔ ایف آئی آر، فیصلہ، جیل ریکارڈ اور تمام میڈیکل کاغذات ساتھ لائیں۔
Facing this legal problem? Talk to an Advocate High Court today.
Muhammad Shafique Baloch, Advocate High Court, Lahore. Practising since 2006 in bail, FIA, family, property and writ matters. | ابھی واٹس ایپ پر رابطہ کریں
محمد شفیق بلوچ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
دفتر نمبر 3، بیسمنٹ، میکوپ سینٹر، 1 مزنگ روڈ، نزد اے جی آفس چوک / لاہور ہائی کورٹ، لاہور
واٹس ایپ / فون: 0321-4960782
یہ مضمون سپریم کورٹ کے فیصلے مسمات صفیہ بانو بنام ہوم ڈیپارٹمنٹ (PLD 2021 SC 488) کا اکتوبر 2026 تک کا خلاصہ ہے، قانونی مشورہ نہیں۔ فیصلے کے بعد قوانین، قواعد اور نوٹیفکیشنز میں تبدیلی ہو سکتی ہے، اس لیے عدالت میں کسی بات پر انحصار سے پہلے مکمل فیصلہ پڑھیں اور موجودہ صورتحال، بشمول اپنے ضلع میں میڈیکل بورڈ کی نوٹیفکیشن، ضرور جانچ لیں۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق پر منحصر ہوتا ہے۔