پاکستان میں بچوں کی کسٹڈی اور سرپرستی کا قانون: ماں اور باپ کے حقوق، حضانت اور گارڈین کورٹ لاہور

ماں باپ اور بچہ پاکستان میں بچوں کی کسٹڈی کا قانون ایڈووکیٹ محمد شفیق بلوچ

جب میاں بیوی میں علیحدگی یا طلاق ہو جائے تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ بچے کس کے پاس رہیں گے؟ پاکستان میں بچوں کی حوالگی (حضانت / کسٹڈی) اور سرپرستی کے مقدمات گارڈین کورٹ سنتی ہے، جو پنجاب میں فیملی کورٹ ہی ہے۔ اس مضمون میں ہم آسان زبان میں بتائیں گے کہ پاکستان (پنجاب) میں بچوں کی کسٹڈی کا قانون کیا ہے، ماں اور باپ کے کیا حقوق ہیں، ملاقات کا شیڈول کیسے طے ہوتا ہے، خرچہ کیسے ملتا ہے اور گارڈین کورٹ لاہور میں مقدمہ کیسے چلتا ہے۔

Facing this legal problem? Talk to an Advocate High Court today.

Muhammad Shafique Baloch, Advocate High Court, Lahore. Practising since 2006 in bail, FIA, family, property and writ matters. | ابھی واٹس ایپ پر رابطہ کریں

مختصر جواب: پاکستان میں بچے کی کسٹڈی کس کو ملتی ہے؟

  • بچے کی بہبود (ویلفیئر) سب سے مقدم ہے۔ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کی دفعہ 17 کے تحت عدالت وہی فیصلہ کرتی ہے جو بچے کے حق میں بہتر ہو۔
  • ماں کا حقِ حضانت: فقہ حنفی کے مطابق ماں کو عام طور پر بیٹے کی 7 سال کی عمر تک اور بیٹی کی بلوغت تک کسٹڈی کا حق حاصل ہے۔
  • باپ قدرتی ولی ہے: بچہ ماں کے پاس ہو تب بھی باپ اس کا قانونی سرپرست رہتا ہے اور خرچہ دینے کا پابند ہے۔
  • کوئی اصول حتمی نہیں: سپریم کورٹ بار بار قرار دے چکی ہے کہ عمر کے یہ اصول بچے کی بہبود کے تابع ہیں۔

کسٹڈی اور سرپرستی میں فرق

  • کسٹڈی (حضانت): بچے کی روزمرہ دیکھ بھال، یعنی بچہ کہاں رہے گا، اس کا کھانا، تعلیم اور تربیت کون دیکھے گا۔
  • سرپرستی (ولایت): بچے کی ذات اور جائیداد پر قانونی اختیار، جیسے اہم فیصلے، دستاویزات اور جائیداد کے معاملات۔ اسلامی قانون میں باپ قدرتی ولی ہے۔

یعنی ممکن ہے کہ بچے ماں کے پاس ہوں اور باپ بدستور ان کا ولی رہے۔ ضرورت ہو تو عدالت گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کے تحت کسی کو سرپرست مقرر بھی کر سکتی ہے۔

پنجاب میں لاگو قوانین

  • گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890: ہر مذہب کے بچوں پر لاگو ہوتا ہے۔ اہم دفعات: دفعہ 7 (سرپرست کی تقرری)، دفعہ 12 (عبوری کسٹڈی)، دفعہ 17 (بچے کی بہبود)، دفعہ 25 (بچے کی واپسی) اور دفعہ 26 (عدالت کی حدود سے باہر لے جانا)۔
  • فیملی کورٹس ایکٹ 1964: بچوں کی کسٹڈی اور سرپرستی اس کے شیڈول میں شامل ہیں، اس لیے یہ مقدمات فیملی کورٹ سنتی ہے۔ ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت فیملی کورٹ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کے لیے ضلعی عدالت تصور ہوتی ہے، اسی لیے اسے گارڈین کورٹ کہا جاتا ہے۔
  • اسلامی شخصی قانون (حضانت): ملا کی کتاب Principles of Mahomedan Law کے پیرا 352 تا 355 میں ماں کے حق، دیگر رشتہ دار خواتین کی ترتیب اور نااہلی کی وجوہات بیان ہیں۔
  • بین الاقوامی اصول: عدالتیں اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال کا حوالہ بھی دیتی ہیں کہ بچے کا بہترین مفاد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ماں کا حقِ حضانت

فقہ حنفی، جس کی پیروی پنجاب کے اکثر مسلمان کرتے ہیں، کے مطابق ماں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ:

  • بیٹے کو 7 سال کی عمر تک اپنے پاس رکھے؛ اور
  • بیٹی کو بلوغت تک اپنے پاس رکھے۔

اگر ماں موجود نہ ہو یا نااہل ہو تو یہ حق ترتیب وار دیگر رشتہ دار خواتین کو منتقل ہوتا ہے، جن میں پہلے نانی اور پھر دادی ہیں۔

کیا ماں کسٹڈی سے محروم ہو سکتی ہے؟

روایتی طور پر ماں کا حقِ حضانت ختم ہو سکتا تھا اگر وہ بچے کے غیر محرم سے دوسری شادی کر لے، بدچلنی اختیار کرے، بچے سے غفلت برتے یا باپ کی رضامندی کے بغیر بچے کو بہت دور لے جائے۔ لیکن اب عدالتیں ان اصولوں کو خودکار طور پر لاگو نہیں کرتیں:

  • راجہ محمد اویس بنام نازیہ جبین (سپریم کورٹ، سی پی 240 آف 2021، فیصلہ 5 اکتوبر 2022) میں قرار دیا گیا کہ ملا کے پیرا 352 تا 354 کی شرائط حتمی نہیں بلکہ بچے کی بہبود کے تابع ہیں۔ ماں کی دوسری شادی بذاتِ خود اسے نااہل نہیں کرتی، اور بچوں کی اپنی خواہش کو بھی مدِنظر رکھا گیا۔
  • گل صادم خان بنام مسماۃ حلیمہ (PLD 2025 SC 47) میں سپریم کورٹ نے دوبارہ قرار دیا کہ دوسری شادی سے ماں خودبخود نااہل نہیں ہوتی اور غربت کی بنیاد پر بچے ماں سے نہیں لیے جا سکتے۔
  • بٹ خان بنام شیریں بی بی (سپریم کورٹ، سی پی 809-P آف 2018، حکم 8 فروری 2019) میں قرار دیا گیا کہ ماں کی غربت کسٹڈی سے محرومی کی وجہ نہیں، اور جرگے کو کسٹڈی کا فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

ہر کسٹڈی کیس میں بچے کی بہبود سب سے مقدم ہے۔ عمر کی حدیں اور شخصی قانون کے اصول رہنمائی کرتے ہیں، یہ اٹل قواعد نہیں۔

باپ کے حقوق: کسٹڈی، سرپرستی اور ملاقات

باپ اپنے بچوں کا قدرتی ولی ہے۔ ماں کی حضانت کی مدت ختم ہونے کے بعد (بیٹے کی 7 سال اور بیٹی کی بلوغت) عام طور پر کسٹڈی باپ کو ملتی ہے، لیکن یہ بھی بچے کی بہبود سے مشروط ہے۔ سپریم کورٹ نے گل صادم خان کیس میں واضح کیا کہ باپ کا حق بھی مطلق نہیں۔ عدالت ایسے باپ کو کسٹڈی دینے سے انکار کر سکتی ہے جو مثلاً:

  • جرائم میں ملوث ہو یا منشیات یا شراب کا عادی ہو
  • بچے کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہو
  • بچے کی دیکھ بھال کی اہلیت یا وسائل نہ رکھتا ہو؛ یا
  • جان بوجھ کر بچے کا خرچہ ادا نہ کرتا ہو۔

باپ کا ملاقات کا حق

جس والد یا والدہ کے پاس کسٹڈی نہ ہو، اسے تقریباً ہمیشہ بچے سے ملاقات کی اجازت ملتی ہے۔ گارڈین کورٹ ملاقات کا شیڈول طے کرتی ہے، مثلاً ہفتے میں ایک دن عدالت کے احاطے یا کسی غیر جانبدار جگہ پر، اور عید یا اسکول کی چھٹیوں میں اضافی وقت۔ اگر والد بیرونِ ملک ہو تو ویڈیو کال کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔ اگر کسٹڈی رکھنے والا فریق بار بار ملاقات میں رکاوٹ ڈالے تو عدالت کسٹڈی کے فیصلے میں اسے مدِنظر رکھ سکتی ہے۔

گارڈین کورٹ لاہور میں مقدمے کا طریقۂ کار

  1. کون سی عدالت: درخواست اس علاقے کی گارڈین (فیملی) کورٹ میں دائر ہوتی ہے جہاں بچہ عام طور پر رہائش پذیر ہو (دفعہ 9، گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ)۔ لاہور میں یہ مقدمات سیشن کورٹ کمپلیکس میں فیملی کورٹس سنتی ہیں۔
  2. درخواست: باپ عموماً دفعہ 25 کے تحت بچے کی واپسی یا دفعہ 7 کے تحت ولی مقرر ہونے کی درخواست دیتا ہے؛ ماں کسٹڈی برقرار رکھنے، ملاقات یا سرپرست مقرر ہونے کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔
  3. عبوری کسٹڈی اور ملاقات: ابتدا میں ہی عدالت دفعہ 12 کے تحت عبوری کسٹڈی اور عارضی ملاقات کا حکم دے سکتی ہے۔
  4. جواب دعویٰ اور شہادت: دونوں فریق اپنا موقف اور ثبوت پیش کرتے ہیں۔ عدالت بڑی عمر کے بچے سے علیحدگی میں بات بھی کر سکتی ہے۔
  5. فیصلہ: عدالت بچے کی بہبود کو دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔ فیملی کورٹس ایکٹ کے مطابق مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ میں ہونا چاہیے، اگرچہ عملاً اکثر زیادہ وقت لگتا ہے۔
  6. اپیل: فیملی کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل ہو سکتی ہے۔ عبوری احکامات کے خلاف عموماً اپیل نہیں ہوتی۔ مناسب صورت میں اپیلیٹ عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

بچوں کا خرچہ (نان نفقہ)

باپ اپنے بچوں کا خرچہ دینے کا پابند ہے، چاہے بچے اس کے پاس ہوں یا نہ ہوں۔ جس ماں کے پاس بچے ہوں وہ فیملی کورٹ میں بچوں کے خرچے کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ پنجاب میں ترمیم شدہ فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 17-A کے تحت عدالت مدعا علیہ کی پہلی پیشی پر ہی بچے کا عبوری ماہانہ خرچہ مقرر کرتی ہے۔ اگر ہر ماہ کی 14 تاریخ تک ادائیگی نہ ہو تو اس کا دفاع ختم کیا جا سکتا ہے، اور جب تک عدالت کوئی اور شرح مقرر نہ کرے، خرچے میں ہر سال 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

کیا بچے کو بیرونِ ملک لے جایا جا سکتا ہے؟

کسٹڈی یا سرپرستی کا مقدمہ زیرِ سماعت ہو تو عدالت کی اجازت کے بغیر بچے کو اس کی حدود سے باہر نہیں لے جانا چاہیے۔ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 26 کے تحت عدالت کا مقرر کردہ سرپرست عدالت کی اجازت کے بغیر بچے کو اس کی حدود سے باہر نہیں لے جا سکتا۔ عدالت کسی فریق کو بچہ بیرونِ ملک لے جانے سے روک سکتی ہے اور بچے کا پاسپورٹ جمع کروانے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

غیر مسلم والدین کے بچوں کی کسٹڈی

گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ ہر مذہب کے بچوں پر لاگو ہوتا ہے۔ مسیحی، ہندو اور دیگر غیر مسلم خاندانوں کے لیے بھی عدالت دفعہ 17 کے تحت بچے کی بہبود کو دیکھتی ہے، اور بچے کے شخصی قانون کو مدِنظر رکھتی ہے۔ مسلم حضانت کی عمر کی حدیں ان پر خودکار طور پر لاگو نہیں ہوتیں۔

بچہ چھین لیا جائے تو فوری بازیابی

اگر بچہ قانونی کسٹوڈین سے زبردستی لے لیا جائے تو بعض اوقات ہائی کورٹ میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 491 (یا آئین کے آرٹیکل 199) کے تحت بازیابی کی درخواست دی جاتی ہے۔ ایسی درخواستوں میں ہائی کورٹ عموماً صرف یہ طے کرتی ہے کہ فی الحال بچہ کس کے پاس رہے، اور کسٹڈی کا حتمی فیصلہ گارڈین کورٹ پر چھوڑ دیتی ہے جو شہادت ریکارڈ کر سکتی ہے۔

کسٹڈی کیس میں عام غلطیاں

  • تاخیر: برسوں انتظار کے بعد کسٹڈی یا ملاقات مانگنا کیس کو کمزور کرتا ہے۔
  • خرچہ ادا نہ کرنا: جو باپ خرچہ نہیں دیتا، اس کے لیے کسٹڈی حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
  • ملاقات روکنا: باپ سے ہر رابطہ ختم کرنے والی ماں اپنا کیس خود کمزور کرتی ہے۔
  • جرگہ یا پنچایت کے فیصلے: جرگے کو کسٹڈی کا فیصلہ کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں۔
  • قانون ہاتھ میں لینا: بچہ چھیننے سے فوجداری کارروائی ہو سکتی ہے اور کیس کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

بچہ کس عمر میں خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ کس کے پاس رہے؟

کوئی مقررہ عمر نہیں۔ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 17(3) کے تحت اگر بچہ سمجھ داری سے رائے دینے کے قابل ہو تو عدالت اس کی رائے کو مدِنظر رکھ سکتی ہے، مگر یہ صرف ایک پہلو ہے اور عدالت اس کی پابند نہیں۔

کیا دوسری شادی پر ماں کسٹڈی کھو دیتی ہے؟

خودبخود نہیں۔ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ دوسری شادی بذاتِ خود ماں کو نااہل نہیں کرتی؛ عدالت ہر کیس میں بچے کی بہبود دیکھتی ہے۔

کیا باپ 7 سال سے کم عمر بچے کی کسٹڈی لے سکتا ہے؟

جی ہاں، لیکن صرف اس صورت میں جب عدالت مطمئن ہو کہ بچے کا ماں کے پاس رہنا اس کی بہبود کے خلاف ہے، مثلاً غفلت یا بدسلوکی کی صورت میں۔

لاہور میں کسٹڈی کیس کتنا وقت لیتا ہے؟

قانون کے مطابق فیملی کیس چھ ماہ میں نمٹ جانا چاہیے، لیکن شہادت اور التوا کی وجہ سے اکثر زیادہ وقت لگتا ہے۔ عبوری کسٹڈی اور ملاقات کے احکامات بہت جلد مل سکتے ہیں۔

کیا دادا دادی یا نانا نانی کسٹڈی مانگ سکتے ہیں؟

جی ہاں، خاص طور پر جب والدین میں سے کوئی فوت ہو چکا ہو یا نااہل ہو۔ ماں کے بعد حضانت کا حق پہلے نانی اور پھر دادی کو ملتا ہے۔

لاہور میں چائلڈ کسٹڈی وکیل کی ضرورت ہے؟

محمد شفیق بلوچ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، 2006 سے لاہور کی فیملی کورٹس اور لاہور ہائی کورٹ میں کسٹڈی، سرپرستی، ملاقات، خرچہ، خلع اور طلاق کے مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں۔ اس موضوع پر انگریزی میں تفصیلی مضمون: Child Custody Law in Pakistan (Punjab)۔ ہماری سروس کا صفحہ: فیملی لائر لاہور۔

Facing this legal problem? Talk to an Advocate High Court today.

Muhammad Shafique Baloch, Advocate High Court, Lahore. Practising since 2006 in bail, FIA, family, property and writ matters. | ابھی واٹس ایپ پر رابطہ کریں

محمد شفیق بلوچ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
دفتر نمبر 3، بیسمنٹ، میکوپ سینٹر، 1 مزنگ روڈ، نزد اے جی آفس چوک / لاہور ہائی کورٹ، لاہور
واٹس ایپ / فون: 0321-4960782

یہ مضمون اکتوبر 2026 تک کی عمومی قانونی معلومات کے لیے ہے، کسی مخصوص مقدمے کے لیے قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کسٹڈی کیس کے حقائق مختلف ہوتے ہیں، کوئی قدم اٹھانے سے پہلے وکیل سے مشورہ کریں۔